- The Islamic Site

ہفتہ، 22 جون، 2019


دعا کے بعد منہ پر ہاتھ کیوں کہتے ہیں ہیں حضرت مالک بن 
جیسا حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہے کہ رسول خدا نے ارشاد فرمایا جس بات کو تم اللہ سے دعا مانگو تو اس سے اپنے ہاتھ کے اندرونی روک کے ذریعہ مانگو اس سے اپنے ہاتھوں کے اوپر کے کمروں کے ذریعے نام ہو ہو اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی سے اپنے ہاتھوں کے اندھوں نے روک کے ذریعے مانگو اس سے اپنے ہاتھوں کے اوپر کے کمروں کے ذریعے نہ مانگو اور جب تم دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ پر پھیر لو تاکہ وہ برکات جو ہاتھوں پر اترتی ہے منہ کو بھی پہنچ جائے حضرت سلیمان رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمھارا پروردگار بہت ہی امن ہے یہنی وہ حیا مندوں کا سا معاملہ کرتا ہے اور بڑا سخی ہے وہ اپنے بندے سے حیا کرتا ہے کہ اسے خالی ہاتھ واپس کریں جب اس کا بندہ اس کی طرف دعا کے لئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے حضرت سعد ابن ابی زید اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب دعا مانگتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تو اپنے منہ کر دونوں ہاتھوں کو کو خیر دے رے تے رے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں