دعا کے بعد منہ پر ہاتھ کیوں کہتے ہیں ہیں حضرت مالک بن
جیسا حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہے کہ رسول خدا نے ارشاد فرمایا جس بات کو تم اللہ سے دعا مانگو تو اس سے اپنے ہاتھ کے اندرونی روک کے ذریعہ مانگو اس سے اپنے ہاتھوں کے اوپر کے کمروں کے ذریعے نام ہو ہو اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی سے اپنے ہاتھوں کے اندھوں نے روک کے ذریعے مانگو اس سے اپنے ہاتھوں کے اوپر کے کمروں کے ذریعے نہ مانگو اور جب تم دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ پر پھیر لو تاکہ وہ برکات جو ہاتھوں پر اترتی ہے منہ کو بھی پہنچ جائے حضرت سلیمان رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمھارا پروردگار بہت ہی امن ہے یہنی وہ حیا مندوں کا سا معاملہ کرتا ہے اور بڑا سخی ہے وہ اپنے بندے سے حیا کرتا ہے کہ اسے خالی ہاتھ واپس کریں جب اس کا بندہ اس کی طرف دعا کے لئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے حضرت سعد ابن ابی زید اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب دعا مانگتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تو اپنے منہ کر دونوں ہاتھوں کو کو خیر دے رے تے رے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں